Sunday , 21 January 2018
Breaking News
Home > News > Breaking News > India: Students in violation of the Constitution’s ban on

India: Students in violation of the Constitution’s ban on

بھارت: ’طالبات پر پابندی آئین کی خلاف ورزی ہے‘

aligarh_muslim_university_girls_aksharing

 

بھارت میں ایک عدالت نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے طالبات کو لائبریری میں داخلے کی اجازت نہ دینے کو ملک کے آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ریاست اترپردیش میں واقع ملک کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیرِتعلیم کئی ہزار انڈرگریجویٹ طالبات کو کیمپس کی مرکزی مولانا آزاد لائبریری میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ لائبریری میں طالبات کی موجودگی سے لڑکے اُن کی طرف کھنچنا شروع ہو جائیں گے اور یہ کہ لائبریری میں لڑکیوں کے لیے مطلوبہ تعداد میں نشستیں بھی نہیں ہیں۔

انھوں نے طالبات کو یہ مشورہ بھی دے دیا ہے کہ وہ لائبریری جانے کی بجائے انٹرنیٹ سے لائبریری کتابیں آرڈر کیا کریں۔

اس پابندی کے خلاف غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس لا نیٹ ورک ’ایچ آر ایل این‘ کی حمایت میں الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

ایچ آر ایل این کی وکیل سمرتھی کرتیکا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذہب، ذات اور جنس سے قطع نظر لائبریری تک رسائی تمام طالب علموں کا بنیادی حق ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ اگر لائبریری میں طالبات کے لیے زیادہ نشستیں نہیں ہیں تو اس صورت میں یونیورسٹی انھیں جگہ فراہم کرنے کے اقدامات کرے۔

عدالت نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے 24 نومبر کو طلب کیا ہے۔

علی گڑھ یونیورسٹی میں اس وقت ایک ہزار انڈر گریجویٹ طالب علم ہیں اور ان میں سے اکثریت طالبات کی ہے۔

وائس چانسلر لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ ضمیرالدین شاہ نے پابندی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں بھی لائبریری میں نشستیں محدود تھیں۔

اطلاعات کے مطابق وائس چانسلر کے بقول لائبریری میں بیھٹنے کی گنجائش پہلے ہی بہت کم ہے اور اگر انڈر گریجویٹ طالبات کو رسائی دی گئی تو اس صورت میں طلبہ بھی پیچھے آنا شروع ہو جائیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ انڈر گریجویٹ طالبات کے کالج سے لائبریری تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور طالبات کو لائبریری آتے ہوئے جنسی ہراس کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

طالبات کو لائبریری سے آن لائن کتابیں حاصل کرنے کی سہولت حاصل ہے تاہم اس فیصلے کے خلاف طالبات نے احتجاج بھی کیا ہے۔

یونیورسٹی کے اس فیصلے پر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور سیاست دانوں نے شدید تنقید کی تھی۔

India: Students in violation of the Constitution’s ban on

A court in India Aligarh Muslim University Library Administration students were denied entry to the country’s constitution has been violated.

Uttar Pradesh, one of the oldest universities in the country, Aligarh Muslim University, several thousand undergraduate students enrolled at the Maulana Azad Library Campus being prevented from entering.

According to reports, Vice-Chancellor said in a statement that the presence of students in the library, you will be attracted to boys and girls in the library are not enough seats.

He gave this advice to students instead of going to the library to order books from library to the Internet.

The ban NGO Human Rights Law Network, HR LNG ‘support was filed in the Allahabad High Court.

HR LNG Task smrthy lawyer told the BBC that religion, caste and gender, regardless of the fundamental right of all students have access to the library.

During the court hearing the case said that if there are more seats in the library for students in the University should take steps to provide the space.

Court University November 24 to submit their comments requested.
Aligarh University, then a thousand undergraduate students and the majority of them are students.
VC-Gen (retd) zmyraldyn Shah defended the ban, saying that in the past were limited seats in the library.

He added that undergraduate students from the College Library is located at a distance of three kilometers and students come to the library may have to face sexual harassment.

Students have the freedom to get books from the library online, but it has also protested against the decision students.
University’s decision to work for women’s rights organizations and politicians had criticized.

Leave a Reply